ممبئی،03/نومبر(ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) مہاراشٹر میں حکومت تشکیل کو لے کر جاری تعطل کے درمیان شیوسینا کے سینئر لیڈر سنجے راوت نے اتوار کو کہا کہ ان کی پارٹی بی جے پی سے صرف وزیر اعلی کے عہدے کے معاملے پر ہی بات چیت کرے گی۔ ریاست میں 24 اکتوبر کو اسمبلی انتخابات کے نتائج کا اعلان ہونے کے بعد سے دونوں حلیف پارٹیوں کے درمیان وزیر اعلی کے عہدے کو لے کر تعطل برقرارہے۔اس انتخاب میں 288 رکنی مہاراشٹر اسمبلی میں شیوسینا نے 56 اور بی جے پی نے 105 سیٹوں پر جیت درج کی۔راوت نے کہاکہ تعطل جاری ہے۔حکومت تشکیل کو لے کر ابھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔اگر بات چیت ہوگی، تو صرف وزیر اعلی کے عہدے کو لے کر ہی ہوگی۔راوت نے بی جے پی کو ریاست صدر راج کے نفاذ پر چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدم پارٹی کی صدی کی سب سے بڑی ہار ہوگی۔انہوں نے کہا کہ یہ حیران کن ہے کہ وہ لوگ ایسا کرنے کی بات کر رہے ہیں جو اندرا گاندھی کی طرف سے اعلان ایمرجنسی کو’سیاہ دن‘کے طور پر مناتے ہیں۔شیوسینا کا یہ بیان بی جے پی کے وزیر اعلی کا عہدہ شیئرنہ کرنے کے اپنے موقف پر اڑے رہنے اور پارٹی کے لیڈر سدھیر مگتیوار کے سات نومبر تک نئی حکومت کا قیام نہ ہونے پر ریاست میں صدر راج کی طرف بڑھنے کی بات کہنے کے بعد آیا ہے۔